Wednesday, December 23rd, 2009 at 11:18 pm Posted in Photos category
انور منصور خان ملک کے نئے اٹارنی جنرل
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سینئر وکیل انور منصور خان کی بطور اٹارنی جنرل پاکستان تقرری کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کی تعیناتی کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔
یہ عہدہ سابق اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کی بطور وزیراعظم کی قانونی مشیر تعیناتی کے بعد سے خالی تھا۔
نئے اٹارنی جنرل انور منصور خان ماضی میں سندھ ہائی کورٹ کے جج اور سابق ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں۔
انہوں نے اپنے کیریئر کی ابتدا بطور فوجی کیپٹن کی اور وہ انیس سو اکہتر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ انیس سو تہتر میں انور منصور خآن فوج سے مستعفی ہوگئے تاہم انہیں اکتوبر سنہ چوہتر میں ہی فوج سے ریلیز کیا گیا۔
انور منصور خان کے والد منصور خان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل تھے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انور منصور نے بھی اسی پیشے کو اپنایا اور انیس سو اکیاسی میں وکالت کی ابتدا کی۔ انیس سو تراسی میں انہیں ہائی کورٹ کے لیے انرول کیا گیا جبکہ سنہ دو ہزار میں انہیں سندھ ہائی کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا مگر اگلے ہی سال وہ
ان کے ساتھی وکیل اور ہائیکورٹ بار کے سابق صدر ابرار حسن کے مطابق سقوط ڈھاکہ کے وقت انور منصور خان بنگال میں تھے جہاں سے انہیں جنگی قیدی بناکر بھارت لے جایا گیا تھا۔مستعفی ہوگئے
بعد میں دو ہزار دو میں انہیں سندھ کا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا مگر اس عہدے سے بھی انہوں نے دو ہزار سات میں وہ استعفٰی دے دیا۔ اپنے اس استعفے کی بنیاد انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے قانونی رائے نہ لینا بتایا تھا، جبکہ بعد میں ایسی خبریں بھی آئیں کہ ان کے سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سے اختلاف پیدا ہوگئے تھے۔
استعفے کے بعد انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری کیے گئے عبوری آئینی حکم ( پی سی او ) کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اسے سپریم کورٹ کی جانب سے تین نومبر کو جاری کردہ حکم نامے کے متصادم قرار دیا تھا۔
романтика…
نئے اٹارنی […….